زکوۃ میں کھانا دینا
سوال
زکوۃ میں اگر کوئی طالب علم کو دو وقت یا ایک وقت کھانا دے تو اس کی زکوۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ اور کیا زکوۃ کا شمار سال بھر میں ایک دفعہ ہونا ضروری ہے یا بس ایک دفعہ کے بعد اندازہ کافی ہے اور سوروپیہ کی مالیت کی کیا زکوۃ ہوئی؟ فقط
جواب
جتنی زکوۃ واجب ہے اگر اتنا سامان خورد و نوش لے کر اس کا کھانا پکا کر کسی مستحق طالب علم کو دیدیا جائے، تب بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ اگر آمدنی میں کمی زیادتی کا تغیر ہوتا رہتا ہے تب تو ہر سال اپنی آمدنی کا حساب کرنا ضروری ہے اگر ایک رقم کسی کے پاس رکھی ہوئی ہے یا زیور رکھا ہے اور کوئی آمدنی ایسی نہیں کہ جس پر زکوۃ واجب ہو تو صرف ایک مرتبہ حساب کر لینا کافی ہے اس کے بعد اسی حساب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔