الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ کی ادائیگی رسید پر موقوف نہیں

سوال

زید نے مہتمم کے نام زکوۃ کا روپیہ بھیجا اور مہتمم نے جب زکوۃ کا روپیہ وصول کر کے اپنے رجسٹر میں جمع کر لیا تو وصول کر کے جمع کے بعد معطی کی زکوٰۃ ادا ہو گئی یا جب مہتمم رسید دے جب ادا ہوگی، اور اگر کسی وجہ سے ایک مرتبہ رسید نہ دیں بلکہ علیحدہ علیحدہ سالانہ رسید دے تھوڑی تھوڑی کی بھجوا دے تو رسید سے ادا ہوگی، دریافت طلب یہ ہے کہ وصول کر لینے کے بعد معطی زکوٰۃ دینے والا ہی ہو گیا یا جب کل رسیدات پہنچے گی جب زکوۃ دینے والے کی زکوۃ ادا ہوگی، اور وصول یابی مہتمم کے کرنے سے ادا نہیں ہوگی؟

جواب

زکوۃ کا ادا ہونا رسید پر موقوف نہیں ہے مہتمم مصالح مدرسہ کے تحت رسید چاہے یکدم دے یا تدریجا دے بلکہ معطی نے جب مہتمم کو رقم زکوۃ دے کر اپنی ملک ختم کر دی اور مہتمم نے وصول کر لی تو معطی بری ہو گیا اور اس کے ذمہ سے زکوۃ ادا ہوگئی اور معطی مستحق ثواب ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو