زکوۃ بذریعہ منی آرڈر
سوال
اگر مال زکوۃ بذریعہ منی آرڈر بھیجا جائے تو زکوۃ ادا ہو جائیگی، یا نہیں؟ کیونکہ فتاوی رشیدیہ میں لکھا ہے کہ روپیہ بذریعہ منی آرڈر نہیں بھیجنا چاہئے اسمیں سود کا شائبہ ہے اور درمختار میں لکھا ہے کہ اگر وکیل روپیہ زکوۃ کو قبل از اداء خرچ کر لیوے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی، اور یہ بھی لکھا ہے کہ اگر وکیل زکوۃ دو موکلوں کو خلط کرے گا تو وکیل خائن ہوگا یعنی زکوۃ ادا نہ ہوگی، گوشامی لکھتا ہے کہ زکوة مخلوط باعتبار عرف کے اگر مالک کو علم ہو ادا ہو جائے گی، مگر یہ صورت صرف خلط زکوۃ موکلوں میں گفتگو ہے نہ کہ عام مخلوط مال میں پس ان…
جواب
آپ کے سوال میں دو امر غور طلب ہیں اول یہ کہ منی آرڈر نا جائز ہے، دوم یہ کہ منی آرڈر سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی، جس کی وجوہ کا خلاصہ یہ ہے کہ گورنمنٹ اداء زکوۃ کے لئے وکیل ہے اور وہ منصب وکالت کے خلاف کرتی ہے۔ سوامر اول کے متعلق عرض ہے کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاوی میں بھی مذکور ہے کہ منی آرڈر نا جائز ہے اور مولانا تھانوی مد ظلہم کے پہلے فتاوی میں بھی یہی ہے لیکن بعد کے ایک…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔