زکوة کو جمع رکھنا
سوال
ماہ رمضان میں جو زکوۃ کا روپیہ جمع کیا ہے کیا وہ زکوۃ کا روپیہ عید کو نماز سے پہلے (حقدار تک) یعنی ضرورت مند نہ ملنے پر سال کے آخر تک یا ایک عرصہ تک کسی اور امدادی مصرف کے لئے جمع رکھا جا سکتا ہے، مندرجہ بالا سوال کی تفصیل اس طرح ہے کہ میں کسی مسلم انجمن کا سیکریٹری ہوں، پچھلے دو سال سے ہماری انجمن نے ماہ رمضان میں زکوۃ کے نام پر کل ایک سوستر روپیے جمع کئے تھے، اس مال میں سے صرف ۳۷٫۲۵ / دوضرورت مندوں کو دیئے گئے تھے، اور باقی رقم ۱۳۲/۷۵ را بھی تک انجمن کے پاس جمع ہیں، اس سال پھر انجمن ماہِ رمضان میں زکوۃ کا روپیہ…
جواب
مستحق کو زکوۃ جلد از جلد پہنچا دینا بہتر ہے، تا کہ فریضہ جلد ہی ادا ہو جائے، مگر یہ ضروری نہیں کہ عید کی نماز سے پہلے ہی دیدی جائے اگر مستحق موجود نہ ہوں تو تاخیر بھی کی جاسکتی ہے لیکن سال بھر پورا ہونے سے پہلے ہی ادا کر دی جائے، کسی اور مد میں اس کو صرف کرنا جائز نہیں، انجمن کے پاس جب زکوۃ کے صحیح مصرف موجود نہیں ہیں، تو زکوۃ وصول نہ کرے بلکہ اس کے سب ممبر اپنے اپنے قریبی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔