زکوۃ تھوڑی تھوڑی ادا کرنا
سوال
کسی نے زکوۃ کا حساب کیا مگر جو رقم واجب الادا ہوتی پوری موجود نہیں، تو ایسی صورت میں کیا طریقہ ادائیگی زکوۃ کا ہوگا؟ آیا کما کر تھوڑی تھوڑی رقم ادا کرتے رہنے سے ادا ہو جائے گی؟
جواب
جب نصاب زکوۃ پر سال گزر گیا تو اس نصاب کی زکوۃ کی ادائیگی میں جلدی کرنا بہتر ہے، اور اگر متفرق طور پر مثلاً سال کے اندر فقراء کو تھوڑا تھوڑا بہ نیت زکوۃ دیدیا جائے تو یہ بھی درست ہے: وقيل فورى اى واجب على الفور وعليه الفتوى فيأثم بتاخيرها بلا عذر ظاهر الاثم بالتاخير ولوقل كيوم او يومين الى ان قال وقد يقال المراد ان لا يؤخر الى العام القابل شامی ص ۷۱ ج ۲
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔