الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

روپے کی زکوۃ وزن سے ہے یا قیمت سے؟

سوال

علم الفقہ جلد چہارم ص: ۳۲ میں تحریر ہے کہ روپیہ کی زکوۃ گنتی سے دینا خلاف احتیاط ہے تو کیسے دینا چاہئے اس قسم کی عبارت دوسری کتابوں میں بھی دیکھنے میں آئی، اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ نصاب زکوۃ میں روپے کی قیمت کا اعتبار نہیں، بلکہ وزن کا اعتبار ہے، لہذا اگر کسی کے پاس سو روپے ہیں جو وزن کے اعتبار سے سو تولہ ہوتے ہیں، جن کا چالیسواں حصہ ڈھائی روپیہ ہوا جن کا وزن ڈھائی تولے ہوا، ایسی صورت میں ڈھائی تولہ چاندی دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی یا ڈھائی روپے دینے چاہئیں۔؟

جواب

بہتر یہ ہے کہ سو روپیہ کا وزن کر لیا جائے اور پھر اس کا چالیسواں حصہ وزن ہی کے اعتبار سے ادا کر دیا جائے خواہ روپیہ خواہ چاندی روپیہ پورا تولہ کا نہیں ہوتا بلکہ کچھ کم ہوتا ہے، نیز ہر روپیہ برابر نہیں ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو