الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نوٹ سے زکوة

سوال

(۱) مد زکوۃ کے روپئے مدرسہ کے غریب فنڈ میں جس سے غریب طلبہ کی خرچ برداری کی جاوے داخل کر دینے سے زکوۃ ادا ہو جائیگی یا نہیں یا کہ حیلہ کرنا ہوگا، آپ کے مدرسہ میں اس کا کیا طریقہ ہے؟ (۲) امداد الفتاوی میں مرقوم ہے کہ زکوۃ، فدیہ، فطرہ وغیرہ میں نوٹ دینے سے ادا نہیں ہوتی، بوجہ حوالہ ہونے کے، کیونکہ نوٹ عین روپیہ نہیں بلکہ سند ہے، جب بیت المال میں اس کو داخل کردے روپیہ مل جاوے اس پر موجودہ حالت سے یہ شبہ ہوتا ہے، کہ اب تو یہ نوٹ بعینہ روپیہ ہوگا، غایۃ الامر اتنا ہوتا ہے کہ زیادہ رقم کے نوٹ دینے سے وہ ایک روپیہ والا…

جواب

(۱) ہمارے مدرسہ میں جو نوٹ زکوۃ میں آتے ہیں وہ بعینہ طلباء کو نہیں دیئے جاتے یا ان کو بھنا کر ریز گاری نقد وظیفہ کی صورت میں دیتے ہیں یا کپڑا خرید کر یا جوتہ خرید کر یا غلہ خرید کر اس کی روٹی پکا کر یا کتابیں خرید کر دیتے ہیں، اس سے بلاشبہ زکوۃ ادا ہو جاتی ہے (۲) نوٹ خودرو پیہ نہیں بلکہ حوالہ ہے جیسا کہ امداد الفتاوی میں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو