الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نوٹ کے ذریعہ زکوۃ کی ادائیگی

سوال

ملفوظات حصہ ہفتم ص: ۳۰۵ رساله المبلغ ۱۸ جلد ۱۳ر بابت ماه جمادی الاولی ۶۱ و ملفوظ ۴۴۶ ایک نواب صاحب نے بذریعہ تحریر یہ مسئلہ دریافت کیا کہ آج کل روپیہ تو ملتا نہیں صرف نوٹ ملتا ہے، جس سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی ایسی صورت میں زکوۃ کس طرح ادا کیجائے؟ حضرت اقدس نے تحریر فرمایا کہ زکوۃ غلہ و دیگر اشیاء سے بھی ادا ہو سکتی ہے، پھر زبانی فرمایا کہ یہ فتوی حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔

جواب

نوٹ روپیہ نہیں بلکہ رسید اور حوالہ ہے نوٹ کے ذریعہ سے زکوۃ ادا کرنے کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ فقیر سے ضائع نہ ہو بلکہ وہ اپنے تحصیل مال میں صرف کرے، خواہ اس کا روپیہ بنالے یا اس کے ذریعہ سے کوئی اور شی خرید لے اگر خود نوٹ فقیر سے ضائع ہو گیا تو زکوۃ ادا نہیں ہوئی لہذا اگر کسی مقام پر یہ علم ہو جائے کہ فلاں فقیر سے زکوۃ میں دیا ہوا نوٹ ضائع ہو گیا ہے، تو اتنی مقدار زکوۃ دوبارہ دی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو