نوٹ اور ریز گاری سے زکوۃ
سوال
زید کے پاس ایک ہزار روپیہ کے نوٹ ہیں، وہ اس کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہے، زکوۃ ادا کرنے کے لئے پہلا روپیہ جس میں چاندی غالب تھی نہیں ملتا، ذیل کی چار صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کی جاسکتی ہے۔ (۱) زکوۃ نوٹ سے ہی ادا کر دی جائے، اس صورت میں زکوۃ ادا ہو گی یا نہیں؟ اگر ادا ہوگی تو کیا پہلے روپیہ کی طرح بلا قید ادا ہوگی، یا کسی قید کے ساتھ؟ (نوٹ) نوٹوں کی اور دیگر مال مثل نقدی یا زیور وغیرہ کی زکوۃ ادا کرنے میں کچھ فرق ہے یا مطلقاً زکوۃ ادا ہو جائے گی؟ (۲)
جواب
(۱) نوٹ روپیہ نہیں مگر روپیہ کی سند ہے لہذا نوٹ کے ذریعہ سے زکوۃ ادا ہو جائے گی بشرطیکہ مصرف کے پاس پہنچ کر مصرف اس کو اپنے کام میں صرف کر لے، اگر اس سے پہلے پہلے وہ نوٹ ضائع ہو گیا اور مصرف اس کو اپنے کام میں نہیں لا سکا تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی، نوٹ اور ہر قسم کے مال کی زکوۃ نوٹ کے ذریعہ سے ادا کرنا بشرط مذکور صحیح ہے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔