الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پراونڈنٹ فنڈ پر زکوۃ کا حکم

سوال

پراونڈنٹ فنڈ پر زکوۃ ہے یا نہیں، اس میں نصف رقم مالک کی ہوتی ہے اور نصف ادارہ شامل کر کے اس کو محفوظ کر دیتا ہے مگر مالک کا اس پر قبضہ نہیں ہوتا ہے، اگر زکوۃ ہے تو مجموعہ پر ہے یا صرف اپنی رقم پر نیز بعد القبض سے زکوۃ کا حکم ہوگا، یا سال کے سال اپنی باقی رقوم کے ساتھ اس کا حساب شامل رکھا جائے گا۔

جواب

جتنی مقدار ادارہ شامل کرتا ہے اس پر ابھی تو ملک ہی ثابت نہیں ہوئی، لہذا اس پر تو ابھی زکوۃ نہیں جتنی مقدار تنخواہ سے وضع کی گئی ہے، اس پر بھی ابھی زکوۃ لازم نہیں ہے بحث وتحقیق کے بعد حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کو اختیار فرمایا ہے اگر ہر سال اپنی وضع شدہ رقم کی زکوۃ ادا کر دی جائے تو یہ احتیاط و تقویٰ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو