الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نوٹ پر زکوۃ

سوال

آج کل روپیہ دور و پیہ کے نوٹ کا رواج عام ہو گیا ہے، چاندی کا روپیہ نہیں رہا، بعض لوگ عذر کرتے ہیں، کہ زکوۃ تو سونے چاندی یا اس کے سکہ پر ہے ہمارے پاس سونا چاندی یا اس کا سکہ نہیں ہے، نوٹ ہیں جو وجوب زکوۃ کے حکم میں نہیں، نیز یہ کہ زکوۃ ادا کرتے وقت علماء فرماتے ہیں کہ چاندی کے روپے یا سکہ دھات وغیرہ سے نوٹ بدل کر زکوۃ ادا کرو، جب نوٹ سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی، تو پھر اس پر زکوۃ کیسے واجب ہوتی ہے؟

جواب

(۱)نوٹ خود چاندی یا سونے کا سکہ نہیں ہے بلکہ یہ اس کی رسید ہے جو گورنمنٹ یا بینک کے ذمہ بطور قرض موجود اور اس کی وصولیابی پر اس نوٹ کے ذریعہ قدرت حاصل ہے، لہذا در حقیقت اس مال پر زکوۃ واجب ہے، بہتر یہ ہے کہ اس کی یا اس کی قیمت کی کوئی شی غلہ، کپڑا وغیرہ زکوۃ میں ادا کریں تا کہ بالیقین زکوۃ ادا ہو جائے، اگر زکوۃ میں نوٹ دیا اور مصرف زکوۃ فقیر نے اس کے عوض سکہ، غلہ وغیرہ کوئی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو