نوٹ کے ذریعہ زکوۃ
سوال
اگر کسی نے زکوۃ میں نوٹ ادا کئے تو زکوۃ ادا ہو گی یا نہیں؟ مدارس عربیہ میں اکثر لوگ بذریعہ ڈاک یا دوسرے ذرائع سے زکوۃ میں نوٹ ہی ادا کرتے ہیں، اس صورت میں زکوۃ کیسے ادا ہو گی؟
جواب
نوٹ اپنی أصل کے اعتبار سے حوالہ اور سند ہے (مال نہیں) لیکن اس دور میں تقریباً روپیہ معدوم ہے، سب کا روبار نوٹ سے ہی ہوتا ہے، اور سب جگہ نوٹ ہی بلاتردد روپیہ کے قائم مقام بلکہ روپیہ سے زیادہ قابل قدر شمار ہوتا ہے، اس لئے اب نوٹ کے ذریعہ سے بھی زکوۃ ادا ہو جاتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔