دفینہ پر زکوۃ اور ادائے زکوٰۃ سے قبل مسجد کا صحن بنوانا
سوال
ایک بڑھیا نے پہلے زمانہ میں چار ہزار روپیہ دفن کئے اور لڑکوں سے کہہ دیا تھا میرے بعد نکال لینا، اب بڑھیا کے انتقال کے بعد بھائیوں نے اس مدفون کو نکالا، وہ سکہ بارہ ہزار کا ہوا، اس میں سے ایک بھائی نے اپنا حصہ لے لیا، باقی تینوں نے اپنا حصہ مسجد میں دیدیا جس سے صحن بنوایا گیا تو اب اس مدفون پر زکوۃ واجب تھی یا نہیں؟ اور اس صحن پر نماز درست ہے یا نہیں؟
جواب
خود اس بڑھیا کے ذمہ زکوۃ واجب تھی، اسکے انتقال کے بعد اسکے لڑکے مالک ہوئے، اسوقت سے سال بھر گزرنے پر حسب ضابطہ شرعیہ ان کے ذمہ واجب ہوگی، اس فرش صحن میں نماز درست ہے، سال سے پہلے مسجد میں دینے سے زکوۃ واجب نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔