الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ تقسیم کرنے سے بچ گئی اس پر آئندہ سال کی زکوۃ

سوال

ایک شخص صاحب نصاب نے زکوۃ یا خیرات کی مد میں کچھ روپیہ نکال کر رکھ دیا اور تقسیم غرباء کے بعد اس رقم میں سے کچھ روپیہ آئندہ پورے ایک سال تک بچا رکھا رہا تو کیا سال آئندہ اس بچے ہوئے روپیہ پر بھی زکوۃ واجب ہو گی یا یہ کہ یہ رقم زکوۃ سے مستثنیٰ ہوگی؟

جواب

اگر یہ رقم فقراء یا ان کے کسی وکیل کی ملک اور قبضہ میں نہیں پہنچی ہے بلکہ صاحب نصاب ہی کی ملک میں رہی، گو سال پھر گذر جانے سے اس دوسری مملوک رقم کی طرح زکوۃ واجب نہ ہوگی گو محض علیحدہ رکھ دینے سے یہ رقم نہ اس کی ملک سے خارج ہوئی نہ فقراء کے ملک میں داخل ہوئی ہے آئندہ سال اس رقم کو ہٹا کر کے زکوۃ ادا کی جائے اور اس رقم کو گذشتہ زکوۃ واجبہ شمار کر کے مستقلاً ادا کیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو