حولان حول میں قمری حساب ہوگا
سوال
بندہ سابقہ رمضان المبارک کی کسی تاریخ میں اپنے مال کا حساب کر کے زکوٰۃ ادا کر دیا کرتا تھا، اسکے بعد سال تمام کیلئے رمضان المبارک کی بیس تاریخ معین کر کے زکوۃ ادا کرنے لگا لیکن اب تجارت میں شرکت کی وجہ سے رمضان شریف میں حساب کرنا بہت دشوار ہے، دشواری اسلئے بھی ہے کہ سرکاری انکم ٹیکس وغیرہ کا حساب انگریزی سال سے ہوتا ہے اسلئے تمام کمپنیوں وغیرہ میں انگریزی سال سے تمام تر لاکھوں روپیہ کے آمد و خرچ و قرض اور موجود مال وغیرہ کا حساب کیا جاتا ہے جسکے لئے کافی وقت کی ضرورت ہے، اور یہ حساب کا کمائی شرکاء کمپنی میں سے صرف…
جواب
في القنية العبرة في الزكوة للحول القمرى بحر ج: ۲، ص: ۲۰۳ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ شرعاً زکوۃ میں قمری سال کا اعتبار ہوتا ہے لہذا مقدار واجب میں تو قمری سال ہی کا اعتبار کیا جائے البتہ دائے زکوۃ میں تقدیم و تاخیر کی بھی گنجائش ہے، مثلاً رمضان کی ۲۰ تاریخ کو سال پورا ہوا، اس تاریخ کی مالیت مقدار واجب میں معتبر ہوگی لیکن ادا کرنے کیلئے اس وقت روپیہ موجود نہیں بلکہ وہ ایک یا دو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔