الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ سے متعلق حکومت پاکستان کی طرف سے انتالیس سوالات پر مشتمل سوالنامہ

سوال

نوٹ: حکومت پاکستان نے ۳۹ سوالات پر مشتمل استفتاء دار الافتاء مظاہر علوم میں بھیجا، حضرت والا دامت برکاتہم نے جوابات تحریر فرمائے، مگر اصل سوالات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے خیر الفتاوی ص ۳۵۵ تا ۳۹۴ ج ۳ کتاب الزکاة، مطبوعہ مکتبہ الحق بمبئی سے نقل کئے جارہے ہیں۔ جیسا کہ آپ جناب کو علم ہوگا کہ حکومت پاکستان نے ایک زکوۃ کمیٹی مقرر کی ہے، جو زکوۃ کی وصول اور خرچ کے مسئلے پر غور کر رہی ہے، زکوۃ کمیٹی نے ایک سوالنامہ مرتب کیا ہے، جس کی ایک نقل ارسال خدمت ہے، کمیٹی شکر گزار ہو گی اگر آپ اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا سا وقت…

جواب

نحمده ونصلى على رسوله الكريم. (۱) مال مخصوص (نصاب کا چالیسواں حصہ یا جو شرعاً اس کے قائم مقام ہو، جیسے جانوروں میں زکوۃ کا متعینہ حصہ) کا شخص مخصوص (مصرف) کو مالک بنا دینا اور اس میں اپنی کوئی ذاتی منفعت نہ ہو، محض اللہ تعالیٰ کے لئے ہو: ھی تملیک مال مخصوص وهو ربع عشر النصاب او ما يقوم مقامه من صدقات السوائم لشخص مخصوص اهـ مراقى الفلاح وطحطاوى اى مع قطع المنفعة عن المملك من كل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو