زکوۃ انگریزی مہینہ سے ادا کرے یا قمری سے؟
سوال
اپنی زکوۃ انگریزی مہینوں کے حساب سے مارچ میں ادا کرتا آرہا ہے، ادائیگی زیادہ تر رمضان المبارک میں ہوتی ہے، جو عموماً پیشگی ادا کی جاتی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہیکہ انگریزی مہینوں سے قمری مہینہ کم ہوتا ہے، اور زکوۃ کچھ ایام کی رہ جاتی ہے میں ۱۹۶۷ء سے مارچ کا حساب کر رہا ہوں اگر یہ صورت ناپسند ہو اور عند الشرع نا معتبر ہو تو ایسی صورت بتائی جائے کہ کیسے قمری مہینہ رمضان میں حساب کو لایا جائے، جیسے ابھی مارچ ہے رمضان المبارک میں حساب کو آگے کیا جائے تو ڈیڑھ سال کی مدت ہو جائیگی تو ہم کیسے قمری مہینہ کو اپنائیں؟
جواب
انگریزی مہینوں کا حساب کرنے سے ۳۶ ر برس میں ایک سال کا فرق ہو جائے گا، یعنی ایک سال کی زکوۃ ذمہ میں باقی رہ جائیگی اسلئے قمری حساب سے سال کا اعتبار کر کے زکوۃ ادا کی جائے جب کہ آپ ماہ مارچ میں حساب کرتے رہیں اور زکوۃ رمضان المبارک میں (کئی ماہ پیشتر)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔