جو روپیہ کھیت میں لگا اس پر زکوۃ کا حکم
سوال
ایک مقام پر عامۃ الناس ہزاروں روپیہ لگا کر کھیتی کرتے ہیں تقریباً چھ ماہ تک وہ روپیہ کھیت میں لگا رہتا ہے پھر چھ ماہ تک اپنے پاس رہتا ہے، ان پر زکوۃ واجب یا نہیں؟
جواب
روپیہ کا سامان (بیج وغیرہ) خرید کر جب کھیت میں لگا دیا تو روپیہ ختم ہو گیا، کھیت تیار ہونے کے بعد جب غلہ فروخت کیا اس کی قیمت کا روپیہ وصول ہوا، اگر اس کے علاوہ کوئی اور نقد موجود نہیں اور اس روپیہ پر سال بھر نہیں گذرا بلکہ اس سے پہلے ہی کھیت کے کام میں خرچ ہو گیا، تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔