مال مستفاد کی زکوة
سوال
صورت مسئلہ یہ ہے کہ میرے پاس رمضان ۹۲ ھ کی پہلی تاریخ کو دو ہزار روپیہ تھے، دو مہینہ تک اس دو ہزار میں کوئی زیادتی نہیں ہوئی، بلکہ دو مہینے بعد اس میں زیادتی ہوئی تجارت کے وسیلہ سے یہاں تک کہ ۹۳ھ کی پہلی تاریخ کو مبلغ پانچ ہزار روپے ہو گئے اور مجھ پر زکوٰۃ صرف دو ہزار پر واجب ہے یا پورے پانچ ہزار پر؟ مہربانی فرما کر فوری طور پر جواب ارسال فرمائیں۔
جواب
اس صورت میں پانچ ہزار کی زکوۃ لازم ہوگی، درمیان سال میں جس قدر آمدنی میں اضافہ ہو ختم سال پر اس تمام پر زکوۃ ہوتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔