مال حرام پر زکوۃ
سوال
اصل مال مثلاً ایک ہزار روپے میں سود کے ایک سو شامل ہو کر گیارہ سو روپے ہو گئے، کیا سود کی رقم کی بھی زکوۃ ادا کرنی ہو گی یا نہیں؟ ایک مرتبہ مراد آباد میں حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا تھا، حرام، چوری، رشوت وغیرہ، کیا ان اموال میں زکوۃ دینی ہوگی؟ حضرت نے فرمایا تھا کہ (جہاں تک مجھے یاد ہے) جب مال ہیں تو زکوۃ دینی ہوگی۔
جواب
حرام مال اگر جدا ہو مخلوط نہ ہو تو اسپر ملکیت ثابت نہیں، اس پر زکوۃ بھی نہیں، اگر وہ حرام مال حلال مال کے ساتھ مخلوط کر دے تو یہ استہلاک ہے، جو کہ موجب ملک ہے غالباً حضرت مدنی نورا للہ مرقدہ کا جواب اسی بنیاد پر مبنی ہے، لیکن جب کہ مقدار حرام مال کا تصدق واجب ہے تو پھر اس پر زکوۃ ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہے، ورنہ لازم آئے گا، کہ حرام مال کا ربع عشر بھی ادا کرے اور کل کو بھی صدقہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔