الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہبہ پر زکوۃ

سوال

آج سے تقریبا ایک سال ہوتا ہے بیرونِ ہند سے میرے پاس رقم بھیجی تھی اور خط میں یہ لکھا کہ اس میں میرے اور زید و بکر کے ہیں، خیال ہوا کہ ان تین حضرات کی امانت ہے کہ اس قسم کی امانتوں کا سلسلہ ناچیز کے پاس رہتا ہے، ابھی چند دنوں پر میں نے ان کو خط لکھا کہ آپ کی اس رقم کی ابھی تک تفصیل معلوم نہیں ہوئی ہے، زید و بکر میرے یہاں تشریف لائے تھے، لیکن انہوں نے بھی مطالبہ نہیں کیا انہوں نے جواب دیا کہ یہ رقم ہم تین کے لئے ہدیہ ہے، سوال یہ ہے کہ رقم کب سے میری ملک شمار ہوگی، میں اپنی زکوۃ کا سال ابتداء رمضان سے شمار کر کے…

جواب

ہبہ کیلئے قبول لازم ہے، قبول کے بعد سے موہوب پر ملک حاصل ہوتی ہے پس جب تک آپ نے قبول نہیں کیا، آپکی ملک اسپر حاصل نہیں ہوئی، جس وقت قبول کر لیا اس وقت سے مالک ہیں، اسی وقت سے اس پر زکوۃ کا حساب ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو