الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد یا مدرسہ کی رقم پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

سوال

(ألف) اگر کسی مسجد یا مدرسہ کی رقم نصاب کو پہنچ گئی، سال بھر گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ سوال: (ب) نیز مسجد یا مدرسہ میں سنیما کی آمدنی خرچ کی جاسکتی ہے، یا نہیں؟ اگر کوئی شخص سینما ہاؤس مسجد یا مدرسہ کو ہبہ کرنا چاہے تو اسکو کرایہ پر دینا یا فروخت کر کے اسکی رقم مسجد یا مدرسہ میں لگانا درست ہو گا یا نہیں؟ اور حرام اور سود سے کمائی ہوئی رقم پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

(ألف) مدرسہ یا مسجد کے پاس جب رقم بقدر نصاب ہو تو اس میں زکوۃ لازم نہیں۔ (ب) سنیما یا کوئی بھی ناجائز آمدنی کا مسجد یا مدرسہ میں خرچ کرنا درست نہیں، ایسی آمدنی کا تصدق ضروری ہے، غریب مسکین طلبہ ہی اس کے مصرف ہیں کہ تنخواہ تعمیر وغیرہ میں خرچ نہ کریں، اگر سنیما ہاؤس جو کہ جائز آمدنی سے بنایا گیا تھا اس کو مسجد یا مدرسہ میں دے تو اس کو خالی کرا کے جائز محل میں صرف کیا جائے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو