قبرستان میں قربانی
سوال
رام نگر نینی تال کے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ قبرستان میں قربانی کرنا جائز نہیں ہے اس کے باوجود مسلمانوں نے کوئی توجہ نہیں دی بورڈ دوسری جگہ دینے کو تیار ہے لیکن پھر بھی اکثر مسلمانوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ اگر قربانی دوسری جگہ ہوگی تو فساد ہونے کا اندیشہ ہے، تو اس سلسلہ میں کیا کرنا چاہئے؟ اور مسنون طریقہ کیا ہے؟
جواب
قبرستان مردے دفن کرنے کے لئے ہے، وہاں قربانی نہ کی جائے جب کہ بورڈ قربانی کے لئے جگہ دینے کو تیار ہے تو جگہ حاصل کر کے اس کو محفوظ کر دیا جائے، اور اس میں ہی قربانی کی جائے بورڈ کی تجویز قانونی تجویز ہوگی، اس میں فساد کا اندیشہ کیوں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔