الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبر کہنہ کا حکم

سوال

نمبر ۵ کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر قبریں اس قدر پرانی ہوں کہ میت بالکل گل چکی ہوگی، تو اس زمین میں ہل چلانا اور کاشت کرنا سب کچھ درست ہے : ”ولو بلی المیت و صار تراباً جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه (بحر،ص:۱۹۵، ج:۲) آپ کا ارشاد ختم ہوا مگر یہاں یہ واقع ہے کہ ہل چلانے میں ہڈیاں نکلتی ہیں تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے قبر میں اگر ہڈی سر وغیرہ کی نکلے تو کیا حکم ہے کیا دوسری میت دفن کر دے۔

جواب

۱۔ ایسی حالت میں اس زمین میں ہل چلانا اور کاشت کرنا جائز نہیں البتہ اگر مملوکہ زمین میں بلا مالک کی اجازت کے کوئی میت کو دفن کر دے، تو مالک کو یہ اختیار رہتا ہے، کہ اپنی زمین سے میت کو قبر کھود کر نکال دے، یا اس کو زمین سے ہموار کر دے اور کھیتی وغیرہ جو دل چاہے کرے اور چاہے اس قبر کو باقی رہنے دے: ولا يخرج منه بعد اهالة التراب الا لحق أدمى كأن تكون الارض مغصوبة او أخذت بشفعة…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو