بڑوں کی قبریں اور چھوٹوں کی قبریں الگ الگ
سوال
ایک قبرستان ۶۵/۶۰ سال سے عمل میں آرہا ہے، عرصہ ۵٫۴ سال سے ایک کمیٹی بنائی گئی اور سب کے مشورہ سے ایک شخص شمشوں خاں کو اس کا سیکریٹری مقرر کیا گیا، کمیٹی اور سیکریٹری صاحب کی رائے سے یہ فیصلہ ہوا کہ سیانی کی قبر ایک لائن میں کھودی جائے اور بچکانی کی قبر ایک لائن میں، یہ فیصلہ ٹھیک سے چلتا رہا، ۸ فروری ۷۴ء کو ایک لڑکی جس کی عمر ۷ سال کی تھی فوت ہوگئی، قبر کھدوانے کے لئے ناپ لیا گیا، اس وقت کمیٹی کے ایک ممبر موجود تھے، انہوں نے فرمایا کہ ناپ سے معلوم ہوتا ہے کہ قد میں بڑی ہے، اس لئے سیانی لائن میں قبر کھودی جائے،…
جواب
یہ پابندی که سیانی قبریں الگ لائن میں ہوں اور بچکانی قبریں الگ لائن میں ہوں کوئی شرعی حکم نہیں، اس پر اتنا زور دینا ہی غلط ہے، اگر قبروں کی خوشنمائی کے لئے یہ لائن بندی کی تجویز کی گئی ہے، تب بھی جس کا قد طویل ہو اس کی قبر سیانی قبروں کے مناسب ہے گو عمر کم ہو، اس سب کے با وجود جب سیکریٹری صاحب سے معذرت کی گئی اور عاجزی کے ساتھ کہا گیا کہ جمعہ کا وقت ہو گیا اور یہ سہواً کیا ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔