الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبرستان کی چہار دیواری سنیما کی آمدنی سے

سوال

یہاں پر قدیم قبرستان ہے جس کی چہار دیواری نہیں کی گئی، اب اس کی صورت یہی ہے کہ کسی طرح اس کی چہار دیواری کرائی جائے، چندہ کی تحریک کی جا چکی ہے، مگر مسلمانوں کی بدحالی کی وجہ سے چندہ اکٹھا نہیں ہو رہا ہے، اور خرچ کا تخمینہ بہت زیادہ ہے، ایسی صورت میں اگر دو چار شوسنیما کے کرا کر اس کی آمدنی سے چہار دیواری کرادی جائے تو شرعاً کیا حکم ہے؟ اگر کوئی دوسری صورت ہو تو اس سے بھی آگاہ کرنے کی زحمت فرمائیں۔

جواب

اس مقصد کے لئے سنیما کرانے اور اس سے رقم حاصل کرنے کی اجازت نہیں، معصیت ہے اگر قبرستان کے چہار طرف دوکانیں تعمیر کر کے ان کو کرایہ پر اٹھا دیا جائے اور کرایہ سے قبرستان کے مصارف پورے کئے جائیں تو اس کی گنجائش ہے، جب کہ ان تعمیرات سے قبرستان میں تنگی واقع نہ ہو، تعمیر کے لئے رقوم قرض میں لی جائیں، ایسے آدمی آج کل بسہولت مل جائیں گے جو پیشگی رقم دیدیں، اور دوکان اس کو دیدی جائے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو