قبرستان کے درختوں کا مصرف
سوال
ایک احاطه قبرستان جس کے درمیان میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی گئی ہے، قبرستان بہت پرانا ہے، جس کے چاروں طرف انگریزوں کی ملکیت ہے، اس کا کوئی ایک مالک ہے اور وہ بھی اپنی ملکیت کی زمین فروخت کر چکا ہے، اگر قبرستان کے درخت وغیرہ کاٹ کر اپنے کام میں لائے جائیں اور مسجد کے مصارف چندہ سے پورے ہوتے ہیں، تو اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے اور کیا یہ درخت مسجد میں لگ سکتے ہیں۔
جواب
اگر وہ قبرستان وقف ہے (جیسا کہ عرف ہے) تو کسی شخص کو درخت وغیرہ کاٹ کر اپنے کام میں لانا جائز نہیں بلکہ مصارف وقف پر صرف کرنا واجب ہے اور سبز درخت کا کاٹنا قبرستان سے ناجائز ہے البتہ سوکھا درخت کاٹ کر مصارف وقف پر صرف کر دیا جائے اگر واقف نے مسجد میں خرچ کرنے کی اجازت دی ہے، تو وہاں بھی خرچ کرنا درست ہے، جو شخص اپنی ملکیت فروخت کر چکا ہے، اس کو کسی حال میں بھی کاٹنا اور اپنے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔