الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبرستان موقوفہ میں کاشت

سوال

ایک قبرستان بہت ہی وسیع ہے، اس کا کچھ حصہ ایسا بھی ہے، جو عرصہ دراز سے یوں ہی پڑا ہوا ہے، فی الحال اس میں کوئی قبر نہیں ہے، اور نہ بالیقین کہا جا سکتا ہے، کہ کسی زمانہ میں اس حصہ میں مردے دفن کئے گئے یا نہیں؟ اس سال زبردست سیلاب آ کر قبرستان کو کمر بھر اونچا کیچڑ سے کر دیا، جس کو ہماری اصطلاح میں اچانک پڑنا کہتے ہیں، قبر کا نام ونشان نہیں ہے، ایک شخص نے اس حصہ پر اپنی دیدہ و دانستہ دھان کی تخم ریزی کردی، ہاں اگر غلطی سے دو چار قدم قبر والی زمین میں بھی بیج پڑ گیا ہو تو نہیں کہا جاسکتا، دھان ما شاء اللہ بہت اچھا…

جواب

جو قبرستان مردے دفن کرنے کے لئے وقف ہو اس میں کاشت کرنا جائز نہیں، خواہ بالفعل اس میں قبریں موجود ہوں، یا نہ ہوں: لَانَّ شرط الواقف كنص الشارع. كذا في رد المحتار، اب جو دھان اس میں پیدا ہوا بہتر یہ ہے کہ اس کو غرباء،طلباء پر صدقہ کیا جائے، بیواؤں، تیموں کو دیدیا جائے، خواہ مدرسہ کے مہتم کو دیدے کہ وہ نادار طلبہ کے کپڑے کھانے پر صرف کر دے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو