الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبرستان میں دینی مدرسہ قائم کرنا قبور پرانے ہونے سے حکم بدل جاتا ہے

سوال

قصبہ پلکھوہ میں ایک قبرستان ہے، جو بالکل آبادی میں واقع ہے،۱۹۵۳ء سے ۱۹۶۴ء تک اس قبرستان میں مقامی میونسپل بورڈ کی مزاحمت کرنے کی بنا پر مردوں کا دفن ہونا بند ہو گیا تھا، اس وقت کا چیر مین ان قبرستان کے وسط میں کو سٹرک نکال کر قبرستان سے متصل مل میونسپل بورڈ کے خرچے سے لے جانا چاہتا تھا، مسلمانوں نے اس سٹرک کو بذریعہ عدالت روکا جو کہ سٹرک مذکور آج تک نہیں بن سکی بعد میں میونسپل بورڈ میں دوسرا چیر مین منتخب ہوا، اس نے ان قبرستان میں دوبارہ دفن کرنے کی اجازت دیدی آج تک اس قبرستان میں مردے دفن ہو رہے ہیں، چند غیر…

جواب

اگر قبرستان موقوفہ کے ضائع ہو جانے کا قوی اندیشہ ہو اور کوئی صورت تحفظ کی نہ ہو تو ایسی صورت میں وہاں دینی مدرسہ قائم کرنا درست ہے، جس میں قرآن کریم، ناظرہ، حفظ، فقہ حدیث تفسیر کی تعلیم دی جائے۔ اگر اس کا خیال رہے کہ قبور پر تعمیر نہ ہو نہ ان پر چلت پھرت ہو بلکہ وہ محفوظ رہیں، ہاں جو قبور اتنی پرانی ہو گئی ہوں کہ ان میں میت مٹی بن چکی ہو ان کا حکم بدل کر عام زمین کا حکم ہوگا،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو