الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ کا مہتم کس کا وکیل ہے؟ اور مدرسہ کا چندہ کیا وقف ہے؟

سوال

(۱) بعض حضرات رقوم اداروں کے مہتمم صاحبان یا ان کے نمائندوں کو اد کر دیتے ہیں اور کسی ذاتی مجبوری کی وجہ سے، سفر وغیرہ کی مجبوری سے وہ رقم ادارے کو بہت دیر میں پہونچتی ہے۔ اس دوران میں دینے والے کا انتقال ہو جاتا ہے تو ان اداروں کے نمائندگان اور مہتم و منتظم حضرات کے ذمہ اس رقم کی واپسی واجب ہے یا نہیں؟ (۲)

جواب

اس مسئلہ سے متعلق حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری قدس سرہ سے سوال کیا تھا وہ اور اس کا جواب مع حذف مکرر امداد الفتاوی ص ۲۶۲ ج ۲ تا ۲۶۶ ج ۲ میں منقول ہے جو کہ درج ذیل ہے : (س) مدرسہ میں جو روپیہ آتا ہے اگر یہ وقف ہے تو بقاء عین کے ساتھ انتفاع کہاں ہے اور اگر یہ ملک معطی کا ہے تو اس کے مر جانے کے بعد واپسی ورثہ کی طرف واجب ہے؟ (ج)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو