عیدگاہ کا تبادلہ
سوال
ایک قطعہ اراضی جس میں چھوٹی سی نا کافی عیدگاہ ہے چاروں طرف زرعی زمین سے گھری ہوئی ہے اور دیوار عید گاہ بھی مرمت طلب ہے، نمازیوں کی رائے اسکے بنانے کی ہے، اس پرانی عیدگاہ والی آراضی سے کچھ فاصلہ پر دوسری مزروعہ آراضی جو رقبہ میں تقریباً سہ چند ہے، اور نہر سے ملحق لب سٹرک ہے، بدلے میں مفت ہی مل رہی ہے، مالکان آراضی قدیم وجدید ایک ہی ہیں، اگر اس جدید آراضی میں عید گاہ دوبارہ از سرِ نو بنالی جاتی ہے، تو نسبتاً ہر طرح سے آسائش اور سہولت رہے، درمیان آراضی قدیم وجدید کے چند کھیت اور کچی سٹرک ہے، دریافت طلب امر تبادلہ…
جواب
اگر سابق عید گاہ وقف ہے، تو اس کے تبادلہ کی اجازت نہیں۔ اگر نماز عید ادا کرنے کیلئے دوسری وسیع جگہ عید گاہ بنائی جائے تو یہ سابق عید گاہ بھی وقف رہے گی، اس میں باغ لگا کر اس کی آمدنی جدید عید گاہ کی ضرورت میں صرف کی جائے، جب مالکان آراضی کو اللہ نے وسعت دی ہے، اور ہمت دی ہے تو جدید آراضی کو بھی دیدیں، ان کی طرف سے صدقہ جاریہ رہے گا اور ضروریات عید گاہ کے لئے آمدنی بھی انتظام…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔