الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عید گاہ کو مسقف بنانا غیر آباد عید گاہ میں ہسپتال و غیر کی تعمیر

سوال

ایک وکیل صاحب نے ۶ صفحات مشتمل ایک تمہید اور اس کے بعد یہ سوالات قائم کئے جو تحریر ہیں : (۱) کیا عید گاہ مسجد ہے؟ (۲) کیا عید گاہ صرف اس مخصوص وقت کے لئے مسجد کے حکم میں آتی ہے، جب عیدین کا اجتماع یہاں منعقد ہو؟ (۳) عیدین کے اجتماع کے علاوہ عید گاہ کا مقام کیا ہے، اور ایسے وقت کیا یہ جنگل کی تعریف میں آتی ہے، جہاں پر کام کیا جا سکتا ہے؟ (۴)

جواب

(۱ تا ۶) نماز عیدین آبادی سے باہر جا کر کھلے (غیر مسقف) میدان میں ادا کرنا مسنون ومستحب ہے، اس میں شوکت اسلام کا اظہار زیادہ ہے، دھوپ تیز ہونے سے پہلے ادا کر لی جائے، شدید بارش کے وقت جامع مسجد میں ادا کی جائے، ایسی حالت میں عیدالفطر ۲ تاریخ کو اور عید الاضحی ۱۱ یا ۱۲ر تاریخ کو بھی درست ہے عید گاہ کا مسقف کرنا زمانہ سلف میں نہیں تھا، اور اب بھی عموماً نہیں ہے، عید گاہ کا میدان…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو