آپس کی رنجش کی وجہ سے دوسری عید گاہ بنائی گئی اب رنجش رفع ہو گئی تو اس کو کیا کیا جائے؟
سوال
ایک بستی کے اندر پانچ محلے ہیں تین محلے الگ ہو گئے، آپس میں رنجش ہوگئی اور انہوں نے عید گاہ کے لئے ایک زمین خریدی اور نماز عید بھی پڑھی، اب پھر باہم متفق ہو گئے اور سابقہ عید گاہ میں ہی نماز پڑھنے لگے تو جو زمین عید گاہ کے نام سے خریدی تھی اور اس میں نماز بھی پڑھ لی ہے تو وہ زمین عید گاہ ہی رہے گی، یا اس میں دیگر کام کر سکتے ہیں؟
جواب
اگر چندہ کی رقم سے زمین خریدی گئی اور وہاں عید کی نماز ادا کی گئی ہے اور اس زمین کو نماز عیدین کے لئے وقف کر دیا گیا ہے تو اب اس کو فروخت کرنا جائز نہیں : لان الوقف اذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن اه اى لا يكون مملوكاً لصاحبه ولا يملك اى لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه اھ (شامی نعمانیه ۳/۳۶۷، کتاب الوقف)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔