الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجدوں کو چھوڑ کر عید گاہ میں نماز ادا کرنا

سوال

ایک قصبہ ہے چاروں طرف مسلم آبادی ہے ہر محلہ میں مسجد ہے، قصبہ کے درمیان عید گاہ ہے، یہاں رمضان کے مہینے میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے، کہ قصبہ کے بہت سے لوگ مسجدوں کو چھوڑ کر پنجوقتہ نماز اور تراویح اسی عید گاہ میں پڑھتے ہیں، حالانکہ اس کے قرب وجوار میں چار چھ مسجد میں موجود ہیں، اور مسجدوں کی اذان انہیں اچھی طرح سنائی دیتی ہے، پھر بھی وہ لوگ مسجدوں کو چھوڑ کر کھلی عیدگاہ میں ہی پورے رمضان نماز پڑھتے ہیں، اگر بارش ہو تو مسجدوں کو چھوڑ کر بازو کے اسکول میں نماز ادا کرتے ہیں، ایسا کرنا کہاں تک صحیح ہے؟

جواب

مسجدوں کو چھوڑ کر عید گاہ میں پورے رمضان نماز ادا کرنا غلط طریقہ ہے، یہ مسجدوں کو ویران و غیر آباد کرنا ہے ایسا نہ کریں، سب اپنے اپنے محلہ کی مسجدوں کو رمضان المبارک میں اذان و جماعت سے آباد رکھیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو