الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تراویح میں سنانے کی اجرت لیکر مسجد میں ہی فروخت کرنا

سوال

ایک حافظ قرآن نے ختم القرآن کے دن ایسا کیا کہ جو ہار پھولوں کا مقتدیوں کی طرف سے ملا تھا انہوں نے وہیں نیلام کر دیا اس کا نیلام ۳۷۵ روپیہ میں ہوا وہ پیسہ انہوں نے آدھا روپیہ مسجد کی تعمیر میں فنڈ کو دیدیا اور آدھا روپیہ مدرسہ کی تعمیری فنڈ میں دیدیا اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

اگر مسجد میں ہی نیلام کیا تو برا کیا مسجد میں بیع شرا کی اجازت نہیں اگر خارج مسجد میں نیلام کیا تو درست ہے، یہ حکم تو نفس نیلام کا ہے کہ قرآن پاک تراویح میں سنانے کا معاوضہ خواہ بصورت نقد ہو یا کوئی اور چیز ہو نیز پہلے سے طے کر لی ہو یا بغیر طے کئے صرف ذہن میں ہو درست نہیں ہے، خاص کر جبکہ حافظ صاحب کو دینے کا رواج بھی ہو حافظ صاحب نے اس کو اپنے پاس نہیں رکھا بلکہ مدرسہ و مسجد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو