دروازه مزار پر صندوق کے چندہ سے مؤذن وامام کی تنخواہ
سوال
کچھار ضلع میں موضع قو لر قل میں ایک مزار ہے، جو نگر شاہ کے مشہور مقام میں ہے، اس احاطہ میں ایک مسجد بھی ہے، لوگ آتے جاتے مقام کے سامنے جو صندوق رکھا ہوا ہے، اس میں روپے ڈالتے ہیں، ہندو مسلمان وغیرہ ہر قوم کے لوگ ڈالتے ہیں، کس کی کیا نیت ہے معلوم نہیں کیا مسجد کے موذن اور امام کی تنخواہ اس صندوق کے روپے سے دینا درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نہ ہو تو ان روپے کو کیا کیا جائے؟ یہ آمدنی کبھی بند نہ ہوگی، مقامی کمیٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ ہر سال میں بیس سے تیس ہزار روپے وصول ہوتے ہیں۔
جواب
ظاہر تو یہ ہے کہ یہ روپیہ مسجد و مزار کے تحفظ و ضروریات کیلئے اس میں ڈالتے ہیں پس یہ روپئے دونوں ہی ضروریات میں صرف کرنا درست ہیں، اگر وہاں ایک مکتب قائم کر دیا جائے، تو زیادہ مناسب ہے تا کہ مسجد بھی آباد رہے اور صاحب مزار کو بھی ثواب ملتا رہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔