افطار کیلئے دیا ہوا روپیہ مسجد کے دوسرے کام میں صرف کرنا
سوال
ہمارے قصبہ میں دو تین مسجدیں ہیں، رمضان شریف میں افریقہ سے ہمارے یہاں کے اشخاص افطار کے واسطے چندہ روپے روانہ کرتے ہیں، اور یہاں مسجد کے متولی صاحب ان روپوں میں سے بعض روپے افطار میں خرچ کرتے ہیں، اور اکثر روپے مسجد کے اور کام میں خرچ کرتے ہیں، اور کبھی ان روپوں میں سے اکثر افطار کے لئے خرچ کرتے ہیں، اور بعض مسجد کے اور کام کے لئے خرچ کرتے ہیں، دونوں طرف مساوی خرچ ہوتا ہے، ان تینوں صورتوں میں کیا یہ شرعاً جائز ہے کہ جو روپئے صرف افطار کے لئے وصول ہوں اس میں سے مسجد کے لئے بھی خرچ کئے جائیں، صحیح جواب مع حوالہ کتب…
جواب
جب دینے والے محض افطار کے لئے دیتے ہیں، تو بغیر انکی اجازت کے دوسرے کام میں صرف کرنا جائز نہیں، کیونکہ متولی ایسی حالت میں معطی کا وکیل ہے، اور وکیل کو مؤکل کے امر کے خلاف صرف کرنا درست نہیں، ہکذا فی کتب الفقہ۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔