الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی بوسیدہ چٹائی قبر میں

سوال

یہاں پر عام دستور ہے کہ مسجد کی بوسیدہ چٹائی قبر میں ڈال دیتے ہیں، اور پھر اس کے عوض میں نئی چٹائی خرید کر رکھ جاتے ہیں، کیا یہ دستور جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قبر میں میت کے نیچے چٹائی بچھانا مکروہ ہے۔ کذافی الطحطاوی) مسجد میں اگر کسی شخص نے چٹائی لا کر بچھا دی اور اب وہ بوسیدہ ہوگئی اور مسجد میں استعمال کے قابل نہ رہی تو بچھانے والے اصل مالک کو اختیار ہے کہ جو چاہے کرے، کذافی الفتاوی الہندیہ، اگر یہ مسجد کے پیسہ سے خریدی گئی تو اس کو مسجد کے کسی کام میں لائیں یا فروخت کر کے پیسہ مسجد میں خرچ کر دیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو