الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی جائے نماز وغیرہ کا محافظ مؤذن ہے تقریبات میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں

سوال

مسجد کا مصلی و دیگر جائے نمازاں جو کہ چندے کا ہے، وہ امام کی ذمہ داری میں رہنا چاہئے یا کسی اور کی، یہاں پر لوگ اپنے مکان میں رکھتے ہیں مسجد میں نہیں لاتے جس سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور کہتے ہیں کہ ہم نوکر تھوڑا ہی ہیں، جو لاد کر لاویں اور لے جاویں، مسجد کے جائے نماز شادی کی تقریبات، بستر وغیرہ کے بچھانے کے استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

اس کی حفاظت کے لئے ملازم رکھا جائے مثلاً مؤذن اذان بھی کہے اور مسجد کی صفائی اور حفاظت بھی کرے، اس کی تحویل و نگرانی میں سامان جائے نماز وغیرہ بھی رہے کہ مسجد کی چیز صحیح جگہ پر خرچ ہو اور نمازیوں کو بھی تکلیف نہ ہو سکے مسجد کی جائے نماز شادی کی تقریبات وغیرہ میں استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو