الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کے پنکھے کا استعمال

سوال

(۱) ہماری مسجد کے امام صاحب دس بجے شب میں اعتکاف کی نیت کرتے ہیں، اور مسجد میں سو جاتے ہیں، اور مسجد کے پنکھے استعمال کرتے ہیں، اور امام صاحب دو بجے شب میں اعتکاف ختم کر دیتے ہیں، پنکھوں کا چلانا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) چند روزه دار حضرات مسجد کا پنکھا استعمال کرتے ہیں اور مسجد میں سو جاتے ہیں، ویسے تو روزہ خود عبادت ہے فرض ہے، تو ان لوگوں کو پنکھے کا استعمال کرنا جائز ہے یا نا جائز؟ (۳) مسجد کا پنکھا چلا کر کلام پاک دور کرنا جائز ہے یا نا جائز؟ اور مسجد میں سونا جائز ہے یا نا جائز؟

جواب

(۱) جس نے مسجد کے لئے پنکھا دیا ہے، اگر پنجگانہ نماز کے لئے دیا ہے تو دیگر اوقات میں اس پنکھے کو استعمال نہ کیا جائے، امام اور دوسرے لوگ اس میں سب برابر ہیں۔ (۲) اسکا جواب بھی نمبرا: سے ظاہر ہے۔ (۳) اس کا حال بھی یہی ہے۔ تنبیہ: بہتر یہ ہے کہ یہ پنکھا استعمال کرنے والے حضرات مسجد کو پنکھا استعمال کرنے کی وجہ سے جس قدر مصارف زیادہ ہوں دیدیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو