الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کے پیسہ سے بیت الخلاء اور غسلخانہ بنانا لہو ولعب کی تقریب میں شرکت

سوال

مسجد کے پیسہ سے مسجد کے امام کیلئے پائخانہ بنانا جائز یا نہیں؟ اور نمازیوں کے لئے پانی کے انتظام کے بابت خرچ کرنا کیسا ہے؟ اور شادی وغیرہ میں اگر محلہ کی چند عورتیں جمع ہو کر گیت گاتی ہیں، تو اس شادی میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ یعنی کھانا وغیرہ خصوصاً علماء کے لئے کیا حکم ہے؟ شادی وغیرہ میں ہم اپنے رشتہ داروں کی دعوت وغیرہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور مسجد کی زمین پر ٹھیکہ دینا کیسا ہے؟ ہمارے یہاں اس شرط پر ہوتا ہے، کہ تمہاری زمین سال بھر تک رہے گی تم ہمیں اتنے من اناج دینا؟

جواب

جس طرح غسلخانہ، وضو خانہ مسجد کے پیسہ سے بنایا جاتا ہے، اسی طرح مؤذن و امام کیلئے پاخانہ بنانے کی ضرورت ہو تو وہ بھی درست ہے، وضو استنجاء غسل کیلئے پانی کا انتظام بھی مسجد کے پیسہ سے درست ہے، گانا باجہ بجانا جائز نہیں ہے جس محفل میں گانا، بجانا ہواس میں شرکت اور کھانا درست نہیں، خاص کر علماء و صلحاء کیلئے مسجد کی ضروریات و مصالح کیلئے جو زمین وقف ہو اس کی آمدنی اسمیں خرچ کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو