الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام یا مؤذن کو تنخواہ میں زمین دینا

سوال

مسجد کی زمین امام صاحب یا موذن صاحب کو تنخواہ میں دینا کیسا ہے؟ مثلاً پانچ بیگه زمین امام یا مؤذن کو دیدیا اور کہدیا کہ آپ کو مسجد کی خدمت کے معاوضہ میں پانچ بیگہ زمین دیا، آپ اپنی ضرورت کو اس سے پوری کریں خواہ اس زمین سے امام یا مؤذن کو کافی ہو یا نہیں؟ نیز یہ بھی تحریر فرمائیں کہ ہندوستانی زمین عشری ہے یا نہیں؟ ہمارے یہاں امارت شرعیہ والے ہندوستان کی زمین کو عشری کہتے ہیں جو کہ درست معلوم نہیں ہوتا، اگر عشری نہیں ہے تو کوئی شخص سمجھ کر دیدے تو کیا اس کو بدعت کہیں گے؟

جواب

اس معاملہ پر امام یا موذن رضا مند ہو جائے اور مسجد کو نقصان نہ ہو تو یہ بھی درست ہے، جو زمین حکومت ہند کی ملک قرار پا گئی پھر اسکی طرف سے جس کو بھی دی گئی وہ عشری نہیں، ان پر عشر کو واجب کہنا غلط ہے، البتہ بغیر وجوب کے ہی پیداوار میں سے بطور صدقہ حسب حیثیت دیدیا کریں تو موجب ثواب اور باعث خیر و برکت ہے، عشری زمین وہ ہے جس کو امام المسلمین نے بذریعہ حرب فتح کر کے غازیوں میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو