مسجد کے نیچے تہہ خانہ بنانا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد شیخ فرخ میں جگہ کافی نہ ہونے کی وجہ سے سوختہ مکانوں کی چھتوں پر رکھا جاتا ہے، جس سے نقصان کا اندیشہ ہے متولیان نے اس ضرورت کو محسوس کیا یہ تدبیر سوچی ہے کہ فرش مسجد میں جانب جنوب ایک تہہ خانہ تعمیر کر دیا جائے، جس سے یہ ضرورت رفع ہو جائے، یہ تہہ خانہ پہلے سے قائم نہیں ہے، جدید قائم کیا جائے گا، فرش مسجد بدستور ہموار رہے گا محض فرش کے نیچے تصرف کیا جائے گا، اگر یہ صورت جائز ہو تو تحریر فرمائیں؟
جواب
ایسا تصرف نا جائز ہے کوئی اور انتظام کیا جائے ”لوبنى فوقه بيتا للامام لا يضر لانه من المصالح اما لوتمت المسجدية ثم اراد البناء منع ولو قال عنيت قال لم يصدق تاترخانیه، هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد مع انه لم ياخذ من بناء المسجد شيئاً، درمختار، ص ۵۷۲ / ج۳/ قوله لوبنى فوقه بيتا لامام اى وهو في يده قبل ان يخلى بينه وبين الناس يعمل فيه كذا ايضاً ومن البحر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔