مسجد کے نیچے تہہ خانہ اور اوپر ہال بنانا
سوال
ہمارے شہر اندور میں تقریباً سو سال پرانی ایک جامع مسجد کو منہدم کر کے از سرے نو تعمیر کی گئی، مسجد کی تعمیر جدید کے لئے جو کمیٹی بنائی تھی اس نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا تھا کہ مسجد کے نیچے تہہ خانہ اور مسجد کے اوپر وسیع ہال تعمیر کیا جائے، تہہ خانہ کو جماعت خانہ کے طور پر اور مسجد کی بالائی منزل کو مدرسہ کے لئے اور تقریبات، شادی بیاہ، عقیقہ وغیرہ مواقع پر لوگوں کو کھانا کھلانے اور باراتیوں کو ٹھہرانے کے لئے جن میں مرد، عورتیں، بوڑھے بچے، نمازی، بے نمازی سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں، نیز دیگر کاموں کیلئے استعمال کیا…
جواب
(الف) جس جگہ کو مسجد بنائی جائے وہ نیچے اوپر سب مسجد ہی ہوتی ہے، وہاں کوئی ایسا کام جو احترام مسجد کے خلاف ہو وہ ممنوع ہے، مسجد کے بالائی حصے یا تحتانی حصے کسی جگہ سے بھی حق العبد متعلق نہیں ہونا چاہئے، ہال تقریبات کے لئے بنانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام اہل تقریبات کو اس کے استعمال کا حق ہو اور اس میں وہ کام بھی ہو جن سے مسجد کو بچانا لازم ہے، اس لئے اس کی اجازت نہیں، تہہ خانہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔