الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صحن مسجد میں کنواں بنانا

سوال

یہاں کی جامع مسجد میں باوجود اس کے ایک سرکاری ملکہ پانی لگا ہوا ہے، جو پانی دینے کے لئے کافی ہے، گرمیوں میں نلکے کا پانی تھوڑا ہو جاتا ہے، تو ضرورت رفع کرنے کے لئے ایک کنواں بھی ہے اندریں حالات مسجد والوں نے چاہا کہ ایک کنواں اور کھودنا چاہئے جس میں بجلی کی مشین لگوائیں، اور پانی کی بہتات ہو اور یہ کنواں مسجد کے مال وقف کے صرفہ سے صحن مسجد میں کھودنا تجویز ہوا اور در آن حالا کہ واقف زمین مسجد فوت ہو چکا ہے، یہاں کے علماء میں سے بعض نے ان کو منع فرمایا کہ مسجد ما اعد للصلوة“ ہے یہ تصرف زمین مسجد میں جائز نہیں بعض…

جواب

جو جگہ نماز پڑھنے کے لئے مسجد بنا کر وقف کر دی گئی ہے، اس جگہ کو مستقلاً کسی دوسرے کام میں لانا غرض واقف کے خلاف ہے، ایسی جگہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے، اسکا احترام لازم ہوتا ہے، اگر اس جگہ کنواں بنایا جائے گا تو وہ جگہ ہمیشہ کے لئے غیر صلوٰۃ کے کام میں محبوس رہے گی، حالانکہ وہ نماز کے لئے محبوس کی گئی تھی، نیز وہاں پانی لینے کے لئے طاہر وجب سب جائیں گے، اور عامہ کنویں پر شور و…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو