غیر آباد مسجد کو محفوظ کرنے کی صورت
سوال
جالندھر شہر میں ایک مسجد تھی جو بالکل مسمار ہو چکی ہے، اس مسمار شدہ مسجد کی ایک جانب مسجد کی ملکیت میں دوکانیں ہیں، اگر مسمار شدہ مسجد کی جگہ صحن کو موجودہ دوکانوں میں شامل کر کے ان دوکانوں کی چھت پر جدید مسجد تعمیر کرادی جائے، تاکہ مسلمان نماز ادا کر سکیں اور مسجد کی جگہ محفوظ ہو جائے، ورنہ اس جگہ پر غاصبانہ قبضہ کا احتمال ہے، اس وقت مسجد کی جگہ پر غلاظت اکھٹی ہورہی ہے، جدید مسجد کی تعمیر دوکانوں کا کرایہ دار (غیر مسلم)
جواب
جو جگہ ایک دفعہ وقف کر کے نماز کے لئے مسجد بنادی گئی وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہو جاتی ہے، اس کو کسی دوسرے کام میں لانا ہرگز جائز نہیں ہے اس قاعدہ کلیہ کے ماتحت اس جگہ کو محفوظ رکھنا اور اپنے امکان کی حد تک نماز کے لئے آباد رکھنا ضروری ہے، اور دوکانیں بنانا جو اصل مسجد کا حصہ تھا اس کو دوکانوں کی صورت میں تعمیر کر دیا جائے، اور چھت پر مسجد رہے درست نہیں، قانون تحفظ اوقاف کے ماتحت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔