مسجد کے قریب غیر مملوکہ زمین میں مصالح مسجد کے لئے دوکان وغیرہ بنانا
سوال
مسجد خمران سینکڑوں سال پرانی ہے، ایک کنواں جو مسجد سے متصل ہے مسجد کا کنواں کہلاتا ہے، مگر وہ مسجد سے باہر تھا، بعد میں کسی صاحب خیر نے مسجد کے لئے مسجد میں کنواں بنوادیا، اور مسجد سے باہر والا کنواں ویران ہو گیا، پھر محلہ کی ۹۰ فیصد رائے سے کنویں کو پاٹ کر کئی مسجد کے پیشاب گھر اور دوکانیں تعمیر کی گئیں، یہ تعمیر مسجد کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ سرکاری ریکارڈ میں یہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں ہے، صرف چاہ پختہ لکھا ہے؟
جواب
مسجد کے قریب کچھ جگہ عامہ مصالح مسجد کے لئے خالی چھوڑ دی جاتی تھی، ایسا ہی حال اس جگہ کا معلوم ہوتا ہے، خاص کر جبکہ کوئی اس کی ملکیت کا مدعی بھی نہیں، تو ایسی حالت میں اس جگہ مصالح مسجد کیلئے متفقہ رائے سے دوکانیں وغیرہ بنادینا شرعاً درست ہوا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔