الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پرانی مسجد کو آباد کرنا

سوال

میں نے تعمیر مکان کے لئے زمین خریدی، اس زمین کے احاطہ میں ایک گوشہ میں ایک قطعہ زمین ۶ رفٹ لمبی ۱۵ رفٹ چوڑی مسجد کے نام سے گھری ہوئی ہے، دیواریں تین فٹ سے زائد اونچی ہیں، اور لوگ بتلاتے ہیں کہ کسی وقت یہاں نماز ہوا کرتی تھی، مگر سالہا سال سے اس میں اذان اور نماز قطعاً موقوف ہے، اس محلہ میں دو مسجدیں اور ہیں جہاں با قاعدہ نماز واذان پنجگانہ ادا ہوا کرتی ہے، تو اس زمین کو فروخت کر کے محلہ کی دوسری مسجد میں اس کے روپے کو لگا سکتے ہیں، یا نہیں؟ یا پھر مسجد کے نام سے ہی باقی رکھا جائے، یا اس کی تعمیر ضروری ہے؟

جواب

جب یہ معلوم ہے کہ نماز ادا ہوا کرتی تھی، اور اس کی ہیئت بھی بتاتی ہے کہ یہ قطعہ زمین جدا گانہ ہے کسی کے مکان کا جزو نہیں ہے اور تین فٹ سے زائد اونچی دیواروں سے گھیرا ہوا ہے، اور کوئی ملک کا مدعی نہیں، اس لئے اس کو فروخت نہ کیا جائے، اگر اس کی تعمیر کے اہل محلہ میں گنجائش نہیں تو بغیر تعمیر ہی وہاں اذان ونماز وجماعت کا انتظام کیا جائے، آہستہ آہستہ اس کی تعمیر کی طرف بھی توجہ کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو