پرانی مسجد کو چھوڑ کر نئی مسجد بنانا
سوال
دکھلایا تو اس کے جواب میں نئی مسجد کے جائز کرنے والوں نے جواب دیا کہ یہ مسجد کے وقف میں ہوا اور یہاں ایسا نہیں ہے، پھر ان کو کہا گیا کہ انتقال مسجد ایسی صورت میں جائز نہیں، انہوں نے کہا جائز ہے، برائے مہربانی مطلع فرمائیں، کہ آیا نئی مسجد، مسجد ہے یا نہیں؟ اور انتقال مسجد ایسی صورت میں جائز ہے یا نہیں؟ اور مسجد کا اطلاق کتب فقہ میں جامع مسجد پر آتا ہے یا نہیں؟
جواب
اس تمام تحریر میں پہلی مسجد کو چھوڑنے اور دوسری مسجد بنانے کی وجہ بیان نہیں کی کہ آخر ایسا کیوں کیا، اگر پرانی مسجد میں جگہ موجود تھی، پھر اس کے مقابلہ یا محض نام ونمود وشہرت وفخر کے لئے دوسری مسجد بنائی گئی ہے تو اس کا بنانا درست نہ تھا، اس کے بنانے سے ثواب نہیں ہوگا،”وقیل كل مسجد بني مباهاة اورياء وسمعة اولغرض سواء ابتغاء وجه الله تعالى اوبمال غير طيب فهولا حق بمسجد الضرار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔