الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پرانی مسجد کو چھوڑ کر دوسری جگہ مسجد بنانا

سوال

عرصہ دس سال کا ہوا ہمارے یہاں ایک مسجد کی بنیاد ڈالی گئی جس پر ہندو مسلم تنازعہ پیدا ہوا اور تعمیر مسجد رک گئی مگر اذان ونماز جمعہ اس میں برابر ہو رہی ہے، مگر اب ہندولوگ کہتے ہیں کہ اس جگہ کو چھوڑ کر تم کسی دوسری جگہ مسجد بنالو اور اس زمین کو کسی دوسرے کام میں استعمال کرلو، مثلاً اسلامیہ مدرسہ بنا لو اور یہ زمین مسجد کے نام سے رجسٹری ایک مسلمان نے کرادی ہے، ایسی صورت میں اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ مسجد بنا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

جبکہ وہاں اذان وجماعت دس سال سے ہو رہی ہے، تو اذان وجماعت کو بند نہ کریں بدستور جاری رکھیں، وہ جگہ شرعاً مسجد ہے، اس کو کسی دوسرے کام کے لئے مخصوص نہ کریں، نہ اس کے عوض دوسری جگہ مسجد بنائیں، اگر اس کی چہار دیواری نہیں ہے تو چہار دیواری بنا کر دروازہ لگا کر محفوظ کر دیں، اور پانچوں وقت اذان وجماعت کا اہتمام رکھیں، اتنی بات پر دوسروں کو بھی اعتراض نہیں، اگر فساد کا اندیشہ ہے تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو